ابنا: گلوبل انڈیکس آن ٹیررازم (جی ٹی آئی) کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق اِس فہرست میں پاکستان کی رینکنگ 9٫05 ہے۔ادارہ برائے معیشت اور امن کے جاری کردہ انڈیکس کے ذریعے پہلی بار دہشت گردی سے متاثرہ ملکوں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔یہ انڈیکس تیارکرنے کا مقصد دہشت گردی کےملکوں پر معاشی اور سماجی اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ایک سو اٹھاون ملکوں کی درجہ بندی کے لیے گزشتہ ایک دہائی کے دوران پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات، ان میں ہلاک اور زخمیوں کی تعداد اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کے ریکارڈ سے مدد لی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے 910 واقعات میں 1468 افراد ہلاک، 2459 زخمی جبکہ 458 املاک کو نقصان پہنچا۔اس انڈیکس میں عراق کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے جہاں دہشت گردی کے 1228 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ان واقعات میں 1798 ہلاکتوں کے علاوہ 4905 لوگ زخمی ہوئے جبکہ 660 املاک کو نقصان پہنچا۔تیسرے نمبر پر افغانستان ہے۔ جہاں دہشت گردی کے 364 واقعات میں 1293 افراد ہلاک، 1892 زخمی اور 131 املاک کو نقصان پہنچا۔دہشت گردی کے 529 واقعات کے ساتھ ہندوستان کا چوتھا نمبر ہے، جہاں اس قسم کے واقعات میں 402 افراد ہلاک، 667 زخمی اور 131 املاک کو نقصان ہوا۔رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران دہشت گردی سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔دو ہزار دو میں چھیانوے افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ رواں سال 2012 میں یہ تعداد 1468 تک پہنچ گئی ہے۔انڈیکس کے مطابق، پاکستان میں دہشت گردی کے دو تہائی واقعات بم دھماکوں اور فائرنگ کی صورت میں پیش آئے۔کراچی، پشاور اور کوئٹہ سب سےزیادہ متاثرشہر تھے جبکہ باجوڑ، ڈیرہ بگٹی اور مہمند ایجنسی میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں بدعنوانی انتہائی درجے پر ہے اور ‘دوسروں کے حقوق’ دینے میں بھی ملک کی کارکردگی ناقص رہی ہے۔رپورٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں نو گیارہ کے واقعات کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردی بڑھ گئی۔تاہم 2007 کے بعد سے مجموعی طور پر دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد پچیس فیصد کم ہوئی ہے۔یاد رہے کہ 2007 میں ہی عراق جنگ کا خاتمہ ہوا تھا، لیکن اس کے باوجود عراق اب بھی اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔اسی طرح گزشتہ ایک دہائی میں مشرق وسطٰی اور جنوبی افریقہ دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہوئے، جس کے بعد ایشیا پیسیفک کا نمبر آتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، حیرت انگیز طور پر کم آمدنی والے ملکوں کی بانسبت درمیانے درجے کے ملک دہشت گردی کی زیادہ لپیٹ میں رہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غربت دہشت گردی کی بنیادی وجہ نہیں ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے محض چار فیصد واقعات میں افواج کو نقصان پہنچا جبکہ عام آدمی اور اس کی املاک سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ ، الجیریا اور کولمبیا نے دہشت گردی کے خلاف اپنی کارکردگی بہتر بنائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
19 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 373812
ایک عالمی رپورٹ نے 158 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کوعراق کے بعد دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ملک قرار دیا ہے۔